اصول
گالی دینے کے اصول گالی (دینے والے کے) غصے کو کم کرنے والی اور غریب مسکین کے دل کو سکھیا کرنے والی ہے۔۔گالی کے نہاں خانوں کی پکار ہے۔۔۔یہ بے بس کی تمام آرزوؤں کا اظہار ہے۔۔۔گالی ایک تازیانہ ہے جو انسان کے خون کو گرماتی ہے۔۔یہ مظلوم کا ظالم کے خلاف رد عمل ہے۔۔زبان دانی کی مہارت ہے اور فصیح و بلیغ ہونے کی دلیل ہے بد تہذیب اور گنوار شخص سے لے کر مہذب ترین انسان تک اس سے مستفید ہوتا ہے دنیا و آخرت میں اس کا صلہ ہے۔۔۔ اوپر بیان کیے گے گالی کےتمام پہلو ایسی صداقتیں ہیں جن پر سو سو نیزے پانی چڑھانا مشکل ہے گالی کب ایجاد کی گی۔۔؟؟۔۔شاید یہ بتانا نا ممکن ہو لیکن آج تک کوئی ایسی تہذیب نہیں گزری جو گالی سے نا آشنا ہو مطلب یہ ہے کہ گالی بہت پرانی قسم کی چیز ہے اولڈ از گولڈ چنانچہ اس کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے اسے صحیح جگہ اور اصل مقصد کے لیے استعمال کرنے کا فن بھی آنا چاہیئے گالی کی تعریف نا ممکن ہے بعض احباب کہتے ہیں ایسے الفاظ جنہیں سن کر دوسرا چراغ پا ہو جائے اور آپکا سر پھاڑنے کو تیار ہو جائے گالی کہلاتی ہے۔۔۔اگر یہ تعریف مان لی جاہے تو پھر ہمارے ہاں ایسا بھی ہوتا ہے کہ لوگ اکثر سچ سن کر بھی آپ کا سر پھاڑنے آ جاتے ہیں گو کو زیادہ تر گالیاں نیم صداقت کے زمرے میں آجاتی ہیں لیکن پھر بھی ہم ہر سچی بات کو گالی سمجھنے سے تو رہے اور بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ بری سے بری گالی سن کر لوگ غصے نہیں ہم حساس نہ ہوتے۔۔۔اقتباس کتاب "ماوراے تبسم" مصنف خورشید احمد عون حویلیاں

Comments
Post a Comment