گجر قوم کی تاریخ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
                                         گجر قوم کی تاریخ
      گجر حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے حضرت یافث بن نوح کی اولاد ہیں اور انکا بڑا ملک جزیرہ قادسیہ سے لیکر بلاد ترک ، روس ، بلغاریہ اور دربند دیوار ذی القرنین تک پھیلا ہوا تھا (آثار البلاد و اخبار العباد باب بلاد الخزر ج1ص584)
      انکے ساتھ ہی ھند کا ملک تھا جس کی رشتہ داری گجر بادشاہ ہی سے تھی ،( المعرفہ والتاریخ ج3ص304,305,صورۃ الارض بحر الخزر ج2ص393تا395)
      اور انکی اپنی زبان تھی ۔(معجم البلدان ج2ص 367, البلدان والجغرافیاوالرحلات ج1ص 584)
     اہل بلغاریہ کی زبان بھی گجروں کی زبان کی طرح کی تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہل بلغاریہ کی زبان بھی گوجری ہی تھی ۔( المسالک والممالک  للکرخی ؒ ص131،224)
    ہند میں اس قوم کو گجر ، گرجر گوجر پکارا جاتا ہے اور روم میں جوزاز، بحیرہ اوصاف میں گزر، برطانیہ میں گرجرا اور آرمینیا اور عرب میں خزر یا جزر پکارا جاتا ہے ۔
   خزر خزیرہ یا حریرہ کے مادے سے ہے جسکا معنی ہے کھانے کی وہ قسم جس میں روٹی اور شوربہ ملایا جائے یا شوربے میں  آٹا ملایا جائے , ابو حفص عمر بن علی بن احمد الشافعی نے لکھا ہے کہ جس شوربے میں گوشت زیادہ ہو اسکو خزیرہ کہیں گے اور اگر گوشت کم ہو تو اسے عصیدہ کہیں گے ۔( التوضیح لشرح الجامع الصحیح باب المساجد فی البیوت ج5ص447,448 مسند احمد حدیث عتبان بن مالک ج27 ص 12)
     گجر ہمیشہ سے ایک مقتدر قوت تصور کی جاتی رہی ہے ۔اسلام کے مکی دور میں جب فارس اور قیصر (ھرقل)کا مقابلہ ہوا تو فارس والے قیصر سے جیت گئے جس پر مکہ کے مشرکین نے مسلمانوں کو طعنہ دیا کہ (ھرقل اہل کتاب تھا اور فارس والے بت پرست تھے جو چیت گئے ہیں ) اسکا جواب اللہ نے سورۃ الروم کی ابتدائی آیات میں دیا کہ ،، چند سالوں میں ہی روم (قیصر )پھر سے فارس پر غالب آئے گا ،،(سورۃ الروم)
   کچھ ہی عرصہ بعد ھرقل نے فارس کا مقابلہ کرنے کے لیئے گجر بادشاہ اور ہند کے بادشاہ سے مدد مانگی فارس اور ھرقل دونوں میں دوبارہ جنگ ہوئی اور اللہ کی مدد سے مشرکین کے مقابلے میں اہل کتاب کو گجروں کے ساتھ دینے سے قیصر کو فتح ملی ( المعرفہ والتاریخ ج3ص 304,305)
   گجر کی بہادری پر عرب شاعر عمر بن جاحظ اپنےشعر میں اس طرح بیان کرتے ہیں
        ؎ خزر عیونھم  لدی اعدائھم ،،،، یمشون مشی الاسد تحت الوابل ،،
 گجر کی آنکھ دشمن کی آنکھ کی طرح ہے ،،، انکی چال  بادلوں کے سائے کے نیچے شیر کی چال ہے۔( البرصان ج  1ص216)
   گجر کی بہادری کے ساتھ ساتھ معاشرے میں ایک معزز قوم کے طور پر بھی پہچانی جاتی تھی جس طرح رسول اللہ ﷺ کا شجرہ نسب بیان کرتے ہوئے مصنف ایک شعر میں نبی پاک ﷺ کے خاندان کی تعریف اس طرح کرتے ہیں         ؎  بنو شیبہ الحمد الذی کان وجھہ ،، یضئ ظلام الیل کالقمر البدر
                   کھولھم خیر الکھول ونسلھم ،، کنسل ملوک لاقصار ولا خزر
   بنو شیبہ اس تعریف کے مستحق ہیں جس طرح اسکا چہرہ ہے جیسے چوھدویں کا چاند رات کو چمکتا ہے ، انکے بوڑھے بہترین بوڑھے  ہیں اور ا انکی نسل بادشاہوں کی طرح ہے مگر قیصر اورگجر بادشاہوں کی طرح نہیں ۔(  سیر سبل الھدی والرشاد ج  1ص 266)
    اس سے ثابت ہوتا ہے کہ گجر اس دور میں بھی ایک بڑی اور معزز قوم اور کسریٰ کے مقابل بادشاہت تصور کی جاتی تھی ۔اور یہ کہ اس قدیم دور سے اس قوم کی اپنی زبان تھی جسکو گوجری زبان کہا جاتا ہے آج بھی اس کی اپنی زبان ہے لیکن صد افسوس کی گجر قوم کے افراد خصوصا نوجوان طبقہ گوجری زبان بولتے وقت اپنی توہیں سمجھتا ہے ، مجھے یہ بات سمجھانے کی نیت سے نہ لکھنی ہوتی تو میں اس کو بھی گوجری میں ہی لکھتا لیکن حالت یہ ہے کہ اکثر گجر قوم کے نوجوان اپنی زبان کو جانتے ہی نہیں... .ا

Comments

  1. گجر گبرال کی تاریخ کیا ہیں پلیز بتائیں

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

بھیڑیا خونخوار جانور کے متعلق دلچسب معلومات

بھارت کی طرف سے فائرنگ کنٹرول لائن کی خلاف ورزی بھرپور جوابی کاروائی