نماز
اگر تمہیں شراب پینی ہے تو پیو، کوئی اور نشہ کرتے ہو تو کرتے رہو، کسی برے کام سے میں تمہیں نہیں روکے گا۔ بس میری ایک بات مان لو، جب بھی مسجد میں اذان کی آواز گونجے تو نماز کے لیے دیر مت کرنا، چاہے کوئی اور نیکی کا کام نہ کرنا لیکن، پانچ وقت کی نماز ضرور پڑھنا ..."
وہ آدمی یہ کہہ کے چلا گیا اور ہم سب ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے ...
یہ کئی سال پہلے کی بات ہے جب لڑکپن تھا، جب اچھائی اور برائی میں فرق سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ رات رات بھر گلیوں میں آوارہ گردی کرتے رہنا، بری صحبتوں کے برے آثار کردار پہ نمایاں تھے۔ کل کیا ہوگا، یہ سوچنا ضروری نہیں تھا، آج اور صرف آج کی باتیں، "زندگی کھل کے جیو" کے نعرے لگاتے ہم دوستوں کا ٹولہ ایک درزی کی دکان پہ دیر رات خوش گپیوں میں مشغول تھا۔ ہمارے قہقہوں کی آوازیں رات کی تاریکی میں بہت دور تک جارہی تھیں۔ اتنے میں ایک شخص ہمارے پاس آکے بیٹھ گیا۔ ہم میں سے کوئی اسے نہیں پہنچانتا تھا۔ اسکی شکل پہ نور تھا، یقیناً کوئی نیک انسان ہی تھا۔ اسے دیکھ کے جب ایک دوست شراب کی بوتلیں چھپانے لگا تو وہ آدمی بولا :
" چھپا کیوں رہے ہو۔ میں تمہیں منع نہیں کررہا جو دل کرے، کرو لیکن میری اتنی عرض ہے کہ جہاں اپنے لیے اتنا کر رہے ہو، بس پانچ وقت کی نماز بھی پڑھ لو ... "
وہ چلا گیا اسکے جانے کے بعد سب پھر سے اپنی اپنی ہانکنا شروع ہوئے۔ ان دنوں مجھے میرے والد نے پڑھائی کے لیے ملک سے باہر بھیج دیا تھا اور چند سال بعد میں واپس آیا، ان پرانے دوستوں سے مل کے وہ پرانی یادیں تازہ ہو گئیں۔ مجھے سارے دوست نظر آئے پر ایک دوست کی کمی تھی، میں نے اسکے بارے میں دریافت کیا تو سب ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ میرے بار بار اسرار پر وہ مجھے ساتھ لیے ایک مسجد کے دروازے تک لے کے گئے۔ تھوڑی دیر میں مسجد سے ایک شخص نکلا جس کا چہرہ پر نور تھا، سر پہ ٹوپی اور لباس انتہائی سادہ تھا۔ یہ میرا وہ دوست تھا جو اس رات ایک شخص سے شراب کی بوتلیں چھپا رہا تھا۔ مجھے میری آنکھوں پہ یقین نہیں آیا ...
اس رات کے بعد اجنبی کی بات پہ عمل کرکے اس نے نماز پڑھنا شروع کیا۔ جیسے جیسے دن گزرےاچھائی برائی پہ حاوی ہوتی گئی، دن رات شراب پینے والا سچے دل سے نمازی بن گیا۔ " آ ج " میں جینے والے کو " کل " کی فکر ہونے لگی۔ وہ جھومنا وہ ناچنا کیسے سجدوں میں بدلا نہ اسے پتہ چلا نہ ہی کوئی اور محسوس کر پایا۔ اتنے عرصے بعد اس دیکھ کے مجھے وہ اجنبی لگا۔ پر اس اجنبی میں اتنی کشش تھی کہ میری آنکھیں نم ہو گئیں ...
میرے نہایت ہی محترم و قابل قدر قارئین کرام اس کم فہم و ناعاقبت اندیش کا بخدا آزمودہ ہے کہ :
" نماز برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے "
اللہ تعالٰی مجھ گناہ گار و سیاہ کار سمیت ہم سب مسلمانان عالم کو تاحیات صف اول میں تکبیر اولی کے ساتھ پنجگانہ باجماعت نماز ادا کرنے کی سعادت نصیب فرماتے ہوئے وقت نزع تک عین صراط مستقیم پر چلنے کی کامل توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمیـــــــــــــــــن یارب العالمین ...
وہ آدمی یہ کہہ کے چلا گیا اور ہم سب ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے ...
یہ کئی سال پہلے کی بات ہے جب لڑکپن تھا، جب اچھائی اور برائی میں فرق سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ رات رات بھر گلیوں میں آوارہ گردی کرتے رہنا، بری صحبتوں کے برے آثار کردار پہ نمایاں تھے۔ کل کیا ہوگا، یہ سوچنا ضروری نہیں تھا، آج اور صرف آج کی باتیں، "زندگی کھل کے جیو" کے نعرے لگاتے ہم دوستوں کا ٹولہ ایک درزی کی دکان پہ دیر رات خوش گپیوں میں مشغول تھا۔ ہمارے قہقہوں کی آوازیں رات کی تاریکی میں بہت دور تک جارہی تھیں۔ اتنے میں ایک شخص ہمارے پاس آکے بیٹھ گیا۔ ہم میں سے کوئی اسے نہیں پہنچانتا تھا۔ اسکی شکل پہ نور تھا، یقیناً کوئی نیک انسان ہی تھا۔ اسے دیکھ کے جب ایک دوست شراب کی بوتلیں چھپانے لگا تو وہ آدمی بولا :
" چھپا کیوں رہے ہو۔ میں تمہیں منع نہیں کررہا جو دل کرے، کرو لیکن میری اتنی عرض ہے کہ جہاں اپنے لیے اتنا کر رہے ہو، بس پانچ وقت کی نماز بھی پڑھ لو ... "
وہ چلا گیا اسکے جانے کے بعد سب پھر سے اپنی اپنی ہانکنا شروع ہوئے۔ ان دنوں مجھے میرے والد نے پڑھائی کے لیے ملک سے باہر بھیج دیا تھا اور چند سال بعد میں واپس آیا، ان پرانے دوستوں سے مل کے وہ پرانی یادیں تازہ ہو گئیں۔ مجھے سارے دوست نظر آئے پر ایک دوست کی کمی تھی، میں نے اسکے بارے میں دریافت کیا تو سب ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ میرے بار بار اسرار پر وہ مجھے ساتھ لیے ایک مسجد کے دروازے تک لے کے گئے۔ تھوڑی دیر میں مسجد سے ایک شخص نکلا جس کا چہرہ پر نور تھا، سر پہ ٹوپی اور لباس انتہائی سادہ تھا۔ یہ میرا وہ دوست تھا جو اس رات ایک شخص سے شراب کی بوتلیں چھپا رہا تھا۔ مجھے میری آنکھوں پہ یقین نہیں آیا ...
اس رات کے بعد اجنبی کی بات پہ عمل کرکے اس نے نماز پڑھنا شروع کیا۔ جیسے جیسے دن گزرےاچھائی برائی پہ حاوی ہوتی گئی، دن رات شراب پینے والا سچے دل سے نمازی بن گیا۔ " آ ج " میں جینے والے کو " کل " کی فکر ہونے لگی۔ وہ جھومنا وہ ناچنا کیسے سجدوں میں بدلا نہ اسے پتہ چلا نہ ہی کوئی اور محسوس کر پایا۔ اتنے عرصے بعد اس دیکھ کے مجھے وہ اجنبی لگا۔ پر اس اجنبی میں اتنی کشش تھی کہ میری آنکھیں نم ہو گئیں ...
میرے نہایت ہی محترم و قابل قدر قارئین کرام اس کم فہم و ناعاقبت اندیش کا بخدا آزمودہ ہے کہ :
" نماز برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے "
اللہ تعالٰی مجھ گناہ گار و سیاہ کار سمیت ہم سب مسلمانان عالم کو تاحیات صف اول میں تکبیر اولی کے ساتھ پنجگانہ باجماعت نماز ادا کرنے کی سعادت نصیب فرماتے ہوئے وقت نزع تک عین صراط مستقیم پر چلنے کی کامل توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمیـــــــــــــــــن یارب العالمین ...
Comments
Post a Comment