قصور ایک اور حوا کی بیٹی زیادتی کانشانہ



افسوس صد افسوس۔۔ 
یہ سات سالہ زینب انصاری ہے۔۔
محمد امین انصاری صاحب کی لخت جگر۔۔۔
امین انصاری صاحب عمرے پر گئے ہوئے تھے۔۔
کہ چار درندے اس بچی کو اغوا کر کے لے گئے۔۔
گینگ ریپ کے بعد گلہ گھونٹ کر قتل کرکے لاش گندگی کے ڈھیر پر پھینک دی۔۔۔
وہ بھائی۔۔جنکی  بہنیں انکی آنکھوں کے سامنے ہنس رہی ہیں۔۔وہ باپ جنکی ننھی پریاں انکی گردن سے جھول رہی ہیں۔۔وہ سب اس زینب کو اپنی زینب سمجھیں۔۔اس دکھ کو محسوس کریں جو کلیجہ شکن ہے۔۔اس بچی کی چیخیں۔۔آہیں۔۔سسکیاں۔۔۔جو حلق میں ہی دفن کر دی گئیں۔۔
سوال ہیکہ اس کا جواب کون دے گا۔۔؟؟۔۔
بای ذنب قتلت۔۔؟؟۔۔
کس جرم میں قتل کیا گیا۔۔؟؟
ایسے لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر آنکھیں نکال کر گراونڈ میں تڑپ تڑپ کر مرنے کو چھوڑ دیا جانا چاہئے۔۔
اسی عبرت ناک سزا کے یہ لوگ حقدار ہیں۔۔
(۔۔اس طرز کے لوگوں کے لیے ایسی ہی سزا دور رسالت صلعم میں دی گئی تھی۔۔جب ڈاکہ ڈال کر سامان بھی لوٹا گیا اور قتل بھی کیا گیا تھا۔۔) یہ سب اس فحاشی و عریانی کے علمبرداروں کے سر گناہ ہے جو قوم کو روشن خیال۔۔بے حیا۔۔شہوت پرست درندوں کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔۔
اے میرے خالق و مالک۔۔ان ظالموں کو یہیں برباد فرما۔۔
حیرت ہے ہم بحیثیت مجموعی اتنے سفاک کیوں ہو گئے ہیں۔۔آپ سمجھتے ہیں کہ ایسا معاشرہ قائم رہ سکتا ہے۔۔؟؟
کچھ کہنے کی ہمت اور حوصلہ ہی نہیں۔۔دکھ اتنا تلخ ہے اور واقعہ اتنا ہولناک ہیکہ چند بےترتیب جملے ہی لکھ پایا ہوں۔۔😢😭😢😭۔۔اللہ پاک ہمیں ہدایت نصیب فرمائے اور ظالموں، فاسقوں، فاجروں سے اس زمین کو پاک فرمائے۔۔آمین۔۔

Comments

Popular posts from this blog

گجر قوم کی تاریخ

بھیڑیا خونخوار جانور کے متعلق دلچسب معلومات

بھارت کی طرف سے فائرنگ کنٹرول لائن کی خلاف ورزی بھرپور جوابی کاروائی