حقیقت
☝☝☝☝☝☝☝☝☝
*اس نے اپنی بائیک نکالی اور اس پر سوار ہو کر پھرتی سے کک لگائی تو بائیک کے اسٹارٹ ہونے پر ماں کی آواز آئی اب کدھر جارہے ہو بیٹا ابھی تو تم کالج سے آئے ہو.*
*ماں میں ابھی پہنچا بس ذرا کالج کے لڑکے آؤٹنگ کے لیے جارہے ہیں...*
*ایک تو تمہیں لمحے بھر کا بھی سکون نہیں. تمہارے بابا نے کتنی دفعہ سمجھایا تمہیں کہ یہ آوارہ گردی چھوڑ دو.*
*اور یہ کھانا تو تم کھا کے جاؤ نا!*
*کھانا ادھر سے ہی کھاؤں گا ماں. کون سا روز روز جاتا ہوں. آپ بھی نا خوامخواہ...!!*
*اس نے بائیک کو گیئر لگایا اور چل دیا.*
*مگر اسے کیا معلوم کہ اس کے دوستوں کے ساتھ کوئی اور بھی اس کا منتظر تھا.*
*جب وہ آجاتی ہے تو لمحے بھر کی بھی تاخیر نہیں ہوتی!*
*جب اس کا سر ٹرک ساتھ ٹکرایا ہوگا تو اس نے سوچا ہوگا کیا یہ واقعی "وہی" ہے؟ اور کیا میں واقعتاً مرنے جارہا ہوں.*
*اس نے ایک دفعہ ضرور کہا ہوگا کہ ابھی تو میرے بہت کام باقی ہیں. ابھی تو مجھے اپنے خواب پورے کرنے ہیں... میرا گھر, میرے رشتہ دار اور دوست اور میرا کیرئیر...؟؟؟*
*اسے اٹھا کر فوری ہسپتال پہنچایا گیا... آئی.سی.یو میں داخل کیا گیا. بچے کی حالت نازک ہے ڈاکٹروں اور نرسوں نے دور لگائی. اسے وینٹی لیٹر پر لٹایا گیا. اگلے دو دن اس نے زندگی اور موت کی کشمکش میں گزارے.*
*نوجوان بیٹے کی میت سامنے تھی... ماں منہ پر دوپٹہ رکھے غم سے نڈھال آہیں بھر رہی تھی. باپ دیوانوں کی طرح چلا رہا تھا. بہن بھائیوں کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے. دوست حیران و پریشان سر پر کھڑے تھے*
*کیسا جوان تھا, ابھی عمر ہی کیا تھی, فرسٹ ایئر کا سٹوڈنٹ تھا. میٹرک میں ایک ہزار سے اوپر نمبر لیے تھے. بہت خواب تھے ماں باپ کے,,, تعزیت کے لیے آنے والے تبصرہ کررہےتھے.*
*بالآخر جنازہ ہوا, تدفین ہوگئی!!*
*کیا ایسے نوجوان بھی خاک کا رزق بن جائیں گے؟؟*
*جی ہاں! میں اور آپ بھی... ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اپنی موت کے قریب تر جارہے!!*
*کیا ہمارے پاس ایسا کوئی لائسنس ہے کہ ہم پچاس ساٹھ یا سو سال جیئیں گے اور پھر اپنی مرضی سے مریں گے؟؟*
*اگر نہیں تو پھر زندگی میں اپنی مرضیاں کیوں؟*
*مائی لائف... مائی پرابلمز... مائی ایٹیچیوڈ!!*
*ان باکس چیٹنگ, انٹرنیٹ سرفنگ, موسیقی فلمیں اور دن رات کی نافرمانیاں کون سے لائسنس کے تحت جاری ہیں؟*
*اَیَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ یُّتۡرَکَ سُدًی*
*"کیا انسان خیال کرتا ہے کہ وہ یونہی چھوڑ دیا جائے گا."*

Comments
Post a Comment