کالم جاوید چوہدری
اللہ تعالیٰ کے سو احکامات
جاوید چوہدری اتوار 17 دسمبر 2017
یہ چند برس پرانی بات ہے‘ ایک امریکی نو مسلم نے قرآن مجید سے حقوق العباد سے متعلق اللہ تعالیٰ کے 100 احکامات جمع کیے‘ یہ احکامات پوری دنیا میں پھیلے مسلم اسکالرز کو بھجوائے اور پھر ان سے نہایت معصومانہ سا سوال کیا ’’ہم مسلمان اللہ تعالیٰ کے ان احکامات پر عمل کیوں نہیں کرتے‘‘ مسلم اسکالرز کے پاس اس معصومانہ سوال کا کوئی جواب نہیں تھا.
مجھے چند دن قبل ایک دوست نے یہ احکامات ’’فارورڈ‘‘ کر دیے‘ میں نے پڑھے اور میں بڑی دیر تک اپنے آپ سے پوچھتا رہا ’’ہمارے رب نے ہمیں قرآن مجید کے ذریعے یہ احکامات دے رکھے ہیں‘ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ان احکامات پر پورا اترتے ہیں‘‘ میں یہ احکامات سو نمبر کا پرچہ سمجھ کرترجمہ کر رہا ہوں اور میں یہ آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں‘ آپ پہلے یہ پرچہ حل کریں‘ پھر خود اس کی مارکنگ کریں‘ پھر اپنے پاس یا فیل ہونے کا فیصلہ کریں اور آخر میں یہ سوچیں ہم قیامت کے دن کیا منہ لے کر اپنے رب کے سامنے پیش ہوں گے‘ آپ کا یہ جواب فیصلہ کرے گا ہم کتنے مسلمان ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
1. گفتگو کے دوران بدتمیزی نہ کیا کرو‘‘ حکم دیا‘
2. غصے کو قابو میں رکھو‘
3. دوسروں کے ساتھ بھلائی کرو‘
4. تکبر نہ کرو‘ پانچ‘
5. دوسروں کی غلطیاں معاف کر دیا کرو‘
6. لوگوں کے ساتھ آہستہ بولا کرو‘
7. اپنی آواز نیچی رکھا کرو‘
8. دوسروں کا مذاق نہ اڑایا کرو‘
9. والدین کی خدمت کیا کرو‘
10. منہ سے والدین کی توہین کا ایک لفظ نہ نکالو‘
11. والدین کی اجازت کے بغیر ان کے کمرے میں داخل نہ ہوا کرو‘
12. حساب لکھ لیا کرو‘
13. کسی کی اندھا دھند تقلید نہ کرو‘
14. اگر مقروض مشکل وقت سے گزر رہا ہو تو اسے ادائیگی کے لیے مزید وقت دے دیا کرو‘
15. سود نہ کھاؤ‘
16. رشوت نہ لو‘
17. وعدہ نہ توڑو‘
18. دوسروں پر اعتماد کیا کرو‘
19. سچ میں جھوٹ نہ ملایاکرو‘
20. لوگوں کے درمیان انصاف قائم کیا کرو‘
21. انصاف کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہو جایا کرو‘
22. مرنے والوں کی دولت خاندان کے تمام ارکان میں تقسیم کیاکرو‘
23. خواتین بھی وراثت میں حصہ دار ہیں‘
24. یتیموں کی جائیداد پر قبضہ نہ کرو‘
25. یتیموں کی حفاظت کرو‘
26. دوسروں کا مال بلا ضرورت خرچ نہ کرو‘
27. لوگوں کے درمیان صلح کراؤ‘ اٹھائیس‘
28. بدگمانی سے بچو‘
29. غیبت نہ کرو‘
30. جاسوسی نہ کرو‘
31. خیرات کیا کرو‘
32. غرباء کو کھانا کھلایا کرو‘
33. ضرورت مندوں کو تلاش کر کے ان کی مدد کیا کرو‘
34. فضول خرچی نہ کیا کرو‘
35. خیرات کر کے جتلایا نہ کرو‘
36. مہمانوں کی عزت کیاکرو‘
37. نیکی پہلے خود کرو اور پھر دوسروں کو تلقین کرو‘
38. زمین پر برائی نہ پھیلایا کرو‘
39. لوگوں کو مسجدوں میں داخلے سے نہ روکو‘
40. صرف ان کے ساتھ لڑو جو تمہارے ساتھ لڑیں‘
41. جنگ کے دوران جنگ کے آداب کا خیال رکھو‘
42. جنگ کے دوران پیٹھ نہ دکھاؤ‘
43. مذہب میں کوئی سختی نہیں‘
44. تمام انبیاء پر ایمان لاؤ‘
45. حیض کے دنوں میں مباشرت نہ کرو‘
46. بچوں کو دو سال تک ماں کا دودھ پلاؤ‘
47. جنسی بدکاری سے بچو‘
48. حکمرانوں کو میرٹ پر منتخب کرو‘
49. کسی پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو‘
50. نفاق سے بچو‘
51. کائنات کی تخلیق اور عجائب کے بارے میں گہرائی سے غور کرو‘
52. عورتیں اور مرد اپنے اعمال کا برابر حصہ پائیں گے‘
53. خونی رشتوں میں شادی نہ کرو (کزن میرج)‘
54. مرد کو خاندان کا سربراہ ہونا چاہیے‘
55. بخیل نہ بنو‘
56. حسد نہ کرو‘
57. ایک دوسرے کو قتل نہ کرو‘
58. فریب (فریبی) کی وکالت نہ کرو‘
59. گناہ اور شدت میں دوسروں کے ساتھ تعاون نہ کرو
60. نیکی میں ایک دوسری کی مدد کرو‘
61. اکثریت سچ کی کسوٹی نہیں ہوتی‘
62. صحیح راستے پر رہو‘
63. جرائم کی سزا دے کر مثال قائم کرو‘
64. گناہ اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کرتے رہو‘
65. مردہ جانور‘ خون اور سور کا گوشت حرام ہے‘
66. شراب اور دوسری منشیات سے پرہیز کرو‘
67. جواء نہ کھیلو‘
68. ہیرا پھیری نہ کرو‘
70. کھاؤ اور پیو لیکن اصراف نہ کرو‘
71. نماز کے وقت اچھے کپڑے پہنو‘
72. آپ سے جو لوگ مدد اور تحفظ مانگیں ان کی حفاظت کرو‘ انھیں مدد دو‘
73. طہارت قائم رکھو‘
74. اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہو‘
75. اللہ نادانستگی میں کی جانے والی غلطیاں معاف کر دیتا ہے‘
76. لوگوں کو دانائی اور اچھی ہدایت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاؤ‘
77. کوئی شخص کسی کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا‘
78. غربت کے خوف سے اپنے بچوں کو قتل نہ کرو‘
79. جس کے بارے میں علم نہ ہو اس کا پیچھا نہ کرو‘
80. پوشیدہ چیزوں سے دور رہا کرو (کھوج نہ لگاؤ)‘
81. اجازت کے بغیر دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو‘
82. اللہ اپنی ذات پر یقین رکھنے والوں کی حفاظت کرتا ہے‘
83. زمین پرعاجزی کے ساتھ چلو‘
84. دنیا سے اپنے حصے کا کام مکمل کر کے جاؤ‘
85. اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو‘
86. ہم جنس پرستی میں نہ پڑو‘
87. صحیح(سچ) کا ساتھ دو‘ غلط سے پرہیز کرو
88. زمین پر ڈھٹائی سے نہ چلو‘
89. عورتیں اپنی زینت کی نمائش نہ کریں‘
90. اللہ شرک کے سوا تمام گناہ معاف کر دیتا ہے‘
91. اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو‘
92. برائی کو اچھائی سے ختم کرو‘
93. فیصلے مشاورت کے ساتھ کیا کرو‘
94. تم میں وہ زیادہ معزز ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے‘
95. مذہب میں رہبانیت نہیں‘
96. اللہ علم والوں کو مقدم رکھتا ہے‘
97. غیر مسلموں کے ساتھ مہربانی اور اخلاق کے ساتھ پیش آؤ‘
98. خود کو لالچ سے بچاؤ‘
99. اللہ سے معافی مانگو‘ یہ معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے اور
100. جو شخص دست سوال دراز کرے اسے انکار نہ کرو‘‘۔
اللہ تعالیٰ کے یہ سو احکامات حقوق العباد ہیں‘ ہم جب تک سو نمبروں کے اس پرچے میں پاس نہیں ہوتے ہم اس وقت تک مسلمان ہو سکتے ہیں اور نہ ہی اللہ کا قرب حاصل کر سکتے ہیں خواہ ہم پوری زندگی سجدے میں گزار دیں یا پھر خانہ کعبہ کی چوکھٹ پر جان دے دیں‘ آپ یہ پرچہ چل کریں‘ مارکنگ کریں اور اپنے گریڈز کا فیصلہ خود کر لیں۔مجھے یقین ہے میرے سمیت کوئی مسلمان اس امتحان میں پاس نہیں ہو سکے گا.
آپ گفتگو میں بدتمیزی سے لے کر بھکاری کا ہاتھ جھٹکنے تک اللہ کا کوئی حکم لے لیجیے آپ خود کو خداکا نافرمان پائیں گے‘ ہم اللہ کے نام پر مرنے اور مارنے کے لیے تیار رہتے ہیں لیکن ہم اللہ کا کوئی حکم ماننے کے لیے رضا مند نہیں ہیں‘ اللہ نے ہم انسانوں کو سمجھانے کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء اور چار کتابیں نازل کیں‘ہم نے کتابوں پر عمل کیا اور ان ہی انبیاء کی سنی‘آپ اللہ تعالیٰ کے احکامات کا تجزیہ کر لیجیے آپ کو اللہ کے نوے فیصد احکامات حقوق العباد اور دس فیصد عبادات پر مبنی ملیں گے.
اللہ تعالیٰ عبادات کے اندر بھی انسانوں کے حقوق کو مقدم رکھتا ہے‘ مسجد میں بھی اگر ہمارے سجدے دوسروں کے سجدوں کے راستے میں رکاوٹ بن جائیں تو اللہ ہمارے سجدے قبول نہیں کرتا خواہ ہم خشوع اور خضوع کی انتہا کو ہی کیوں نہ چھو لیں‘ اللہ تعالیٰ اس مسجد کو بھی مسجد نہیں سمجھتا جو راستے میں بنائی گئی ہو یا قبضے کے پلاٹ پر تعمیر کی گئی ہو.
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان عبادتوں کو بھی عبادت گزاروں کے منہ پر مار دے گا جو حقوق العباد کو روند کر ادا کی گئی ہوں گی اور ہمارا رب اس قدر کریم اور مہربان ہے کہ یہ صدقے کا پہلا حق دار بھی خاندان کو قرار دیتا ہے‘ یہ کمانے والے کی ذات کو کمائی کا پہلا حق دیتا ہے لیکن ہم کیا ہیں؟
ہم اپنے خالی‘ اپنے کھوکھلے وجود کو عمامے‘ پگڑیاں اور ٹوپیاں پہنا کر‘ ہم اخلاقیات سے بے بہرہ جسم کو داڑھیاں رکھوا کر اور ہم برائیوں‘ بے ایمانیوں اور گستاخیوں کے ڈھیر پر جائے نماز بچھا کر خود کو دنیا کی مقدس اور متبرک ترین قوم سمجھتے ہیں‘ہم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے باوجودخود کو اللہ تعالیٰ کے ٹھیکیدار بھی سمجھتے ہیں‘ہمیں یہ ماننا ہوگا ہم اپنے رب کے نافرمان ہیں اور رب اپنے نافرمانوں کے پاس قبلہ اول تو کیا قبلہ دوم بھی نہیں رہنے دیتا‘ یہ ان سے ان کی سجدہ گاہیں تک چھین لیا کرتا ہے اور یہ ان کی دعاؤں سے اثراڑا دیا کرتا ہے‘ ہم بھی کیا لوگ ہیں؟
ہم قبضے کے پلاٹوں‘ راستوں اور گرین بیلٹس پر مسجدیں بنا کر یہودیوں کو قبلہ اول کا قبضہ چھوڑنے کا حکم دیتے ہیں‘ ہم اپنے بچوں کو دودھ میں کھاد ملا کر پلاتے ہیں‘ مسلمان مسلمان کو گدھے کا گوشت کھلاتا ہے لیکن یہ پوری مسلم امہ کو یہودی مشروبات اور کھانے کے یہودی برانڈ ترک کرنے کا مشورہ دیتا ہے‘ ہمیں اگراللہ کی نصرت چاہیے توہمیں اللہ کے احکامات پر عمل کرنا ہوگا ‘ ہم کب تک اللہ اللہ کا ورد کرکے اللہ کو دھوکا دیتے رہیں گے‘ اللہ تعالیٰ ہم سب کے مکر اور فریب سے بھی واقف ہے اور یہ ہمارے دلوں کا حال بھی خوب جانتا ہے‘ ہمیں ماننا ہوگااللہ کا جو بندہ اللہ کی نہیں مانتااللہ اس کی نہیں سنتا۔

Comments
Post a Comment