خیبر پختون خوا ہ کی پہلی فی میل ڈی ایف سی
جب ایک آفیسر نے یہ کہا تھا کہ ... لڑکی ہے ٹرکوں پر کیسے چڑھے گی ؟؟ باقی کسی مرد افسر کو تو دیکھا نہیں تھا ابھی تک ٹرک پر مگر .. اس لڑکی نے تو کر دیکھایا ... یہ لڑکی تو ٹرکوں پر بھی چڑھ گئی ... یہ بہت ضروری تھا ویسے.... یہ کر کے دیکھانا .... جہاں ایک فی میل آفیسر کو سات سال تک اس کے حق سے اس لیے محروم رکھا گیا ہو کہ یہ لڑکی ہے یہ نہیں کرسکے گی مگر آج وقت نے جواب دے دیا کہ باتیں بنانے والے جنہیں کچھ اور کمزوری نہیں ملتی تھی تو وہ ایک آفیسر کو اس کے حق پر صرف اور صرف لڑکی ہونے کی بنا پر رکاوٹ ڈالتے رہے اس طرح کی باتیں کہہ کر کہ ... لڑکی ہے ... ٹرکوں پر کیسے چڑھے گی وغیرہ .... اور آج مرد حضرات اپنے دفتروں سے باہر نکلنا پسندنہیں کرتے مگر یہ لڑکی ان مردوں سے زیادہ مستعدی سے کام کرتی نظر آتی ہے .
خیبر پختون خوا ہ کی پہلی فی میل ڈی ایف سی بننا اتنا آسان نہ تھا مگر ہمت ہو تو انسان کیا نہیں کر سکتا اور ایک لڑکی وہ سب کر سکتی ہے جو وہ تھان لے .
محنت اور ایمانداری سےکام کے کرنے کے ساتھ ساتھ سارے منفی رویوں کا سامنے کر کے آگے بڑھتے رہنے والی تمام خواتیں کی ہمت کو سلام
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی
کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در مکنوں
مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں
(کلیات اقبال)

Comments
Post a Comment