Haripur Hazara
ہری پور۔ نڑتوپہ پیر کے پاس آنے والا ایک شخص جان بحق ہو گیا آزاد کشمیر کا رہائشی دم کروانے نڑتوپہ آیا اور گاڑی کی ٹکر لگنے سے جان بحق ہو گیا
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز غلام حسین ولد لساں سکنہ آزاد کشمیر اپنی فیملی کے ہمراہ نڑتوپہ دم کروانے آیا اور سڑک پر تیز رفتار ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا کر جان بحق ہو گیا بظاہر تو یہ ایک عام سی خبر ہے اور ایسا ہوجانا کوئی حیرت کی بات نہیں یہ محض اتفاقیہ حادثہ بھی ہو سکتا ہے لیکن افسوسناک اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایسا اکثر ہوتا ہے کہ اس زیارت پر آنے والے ظاہرین دم سے پہلے دم کے دوران یا دم کے بعد کسی نہ کسی حادثے یا ہارٹ اٹیک کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں
ذرائع نے عوام کی آواز کے رابطہ کرنے پر بتایا کہ پیر (ف) کافی عرصہ سے یہاں پر دم درود اور علاج معالجہ میں مصروف ہے کوئی ڈگری نہ رکھنے کے باوجود وہ مبینہ طور پر جنات کی مدد سے لوگوں کی آنکھوں، گردے، پیٹ، پِتے اور دیگر اعضاء کا آپریشن کرتے ہیں مریض کو ایک کمرے میں لٹا دیا جاتا ہے اور جنات کی مبینہ مدد سے مریض کا آپریشن شروع کر دیا جاتا ہے آپریشن کے بعد مریض کو 21 دن کی احتیاطی تدابیر لکھ کر دی جاتی ہیں
ذرائع نے بتایا کہ کئی مریض آپریشن کے دوران ہلاک ہو جاتے ہیں جس کی وجہ پیر صاحب مریدین کو یہ بتاتے ہیں مریض نے آپریشن کے دوران جنات کو دیکھنے کی کوشش کی ہو گی جس کی وجہ سے مریض مر گیا کیونکہ آپریشن سے پہلے مریض کو سختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ آنکھ نہ کھولنا ورنہ جان چلی جائے گی آپریشن کی فیس پانچ سو روپے سے ایک ہزار روپے تک ہے کسی سے پانچ سو وصول کرنے ہیں اور کس سے ایک ہزار اِس کا فیصلہ پیر صاحب مریض کا مرض دیکھ کر کرتے ہیں حیرت ہے کہ جو لوگ آپریشن کے دوران نہیں مرتے وہ آپریشن کے بعد یا آپریشن سے پہلے کسی نہ کسی حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں اس زیارت سے بچ کر جانے والے مریدوں کی تعداد کافی کم ہے لیکن اس کے باوجود مریدوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے پیر صاحب اپنے مریدوں کو باقاعدہ ڈاکٹر بھی بناتے ہیں اور اُس کام کے لیے سبز لباس اور پاؤں میں زنجیریں پہن کر مرید کو پیر صاحب کے ساتھ رہنا پڑتا ہے پیر صاحب یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ وہ اپنے مریدوں کو یہ ڈگریاں کیسے جاری کرتے ہیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جنات نکالنے کے دوران تشدد سے بھی مریدوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں دوسری طرف ضلعی انتظامیہ ان تمام کاموں سے باخبر ہونے کے باوجود کسی قسم کی کوئی کاروائی کرنے سے قاصر ہے کیونکہ لوگوں کی بد عقیدتی پیر صاحب کی ڈھال ہے
عوامی حلقوں نے مقامی انتظامیہ سے کاروائی کر کے اصل حقائق عوام تک لانے کا مطالبہ کیا ہے.
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز غلام حسین ولد لساں سکنہ آزاد کشمیر اپنی فیملی کے ہمراہ نڑتوپہ دم کروانے آیا اور سڑک پر تیز رفتار ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا کر جان بحق ہو گیا بظاہر تو یہ ایک عام سی خبر ہے اور ایسا ہوجانا کوئی حیرت کی بات نہیں یہ محض اتفاقیہ حادثہ بھی ہو سکتا ہے لیکن افسوسناک اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایسا اکثر ہوتا ہے کہ اس زیارت پر آنے والے ظاہرین دم سے پہلے دم کے دوران یا دم کے بعد کسی نہ کسی حادثے یا ہارٹ اٹیک کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں
ذرائع نے عوام کی آواز کے رابطہ کرنے پر بتایا کہ پیر (ف) کافی عرصہ سے یہاں پر دم درود اور علاج معالجہ میں مصروف ہے کوئی ڈگری نہ رکھنے کے باوجود وہ مبینہ طور پر جنات کی مدد سے لوگوں کی آنکھوں، گردے، پیٹ، پِتے اور دیگر اعضاء کا آپریشن کرتے ہیں مریض کو ایک کمرے میں لٹا دیا جاتا ہے اور جنات کی مبینہ مدد سے مریض کا آپریشن شروع کر دیا جاتا ہے آپریشن کے بعد مریض کو 21 دن کی احتیاطی تدابیر لکھ کر دی جاتی ہیں
ذرائع نے بتایا کہ کئی مریض آپریشن کے دوران ہلاک ہو جاتے ہیں جس کی وجہ پیر صاحب مریدین کو یہ بتاتے ہیں مریض نے آپریشن کے دوران جنات کو دیکھنے کی کوشش کی ہو گی جس کی وجہ سے مریض مر گیا کیونکہ آپریشن سے پہلے مریض کو سختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ آنکھ نہ کھولنا ورنہ جان چلی جائے گی آپریشن کی فیس پانچ سو روپے سے ایک ہزار روپے تک ہے کسی سے پانچ سو وصول کرنے ہیں اور کس سے ایک ہزار اِس کا فیصلہ پیر صاحب مریض کا مرض دیکھ کر کرتے ہیں حیرت ہے کہ جو لوگ آپریشن کے دوران نہیں مرتے وہ آپریشن کے بعد یا آپریشن سے پہلے کسی نہ کسی حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں اس زیارت سے بچ کر جانے والے مریدوں کی تعداد کافی کم ہے لیکن اس کے باوجود مریدوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے پیر صاحب اپنے مریدوں کو باقاعدہ ڈاکٹر بھی بناتے ہیں اور اُس کام کے لیے سبز لباس اور پاؤں میں زنجیریں پہن کر مرید کو پیر صاحب کے ساتھ رہنا پڑتا ہے پیر صاحب یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ وہ اپنے مریدوں کو یہ ڈگریاں کیسے جاری کرتے ہیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جنات نکالنے کے دوران تشدد سے بھی مریدوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں دوسری طرف ضلعی انتظامیہ ان تمام کاموں سے باخبر ہونے کے باوجود کسی قسم کی کوئی کاروائی کرنے سے قاصر ہے کیونکہ لوگوں کی بد عقیدتی پیر صاحب کی ڈھال ہے
عوامی حلقوں نے مقامی انتظامیہ سے کاروائی کر کے اصل حقائق عوام تک لانے کا مطالبہ کیا ہے.

Hazara Updates: Haripur Hazara >>>>> Download Now
ReplyDelete>>>>> Download Full
Hazara Updates: Haripur Hazara >>>>> Download LINK
>>>>> Download Now
Hazara Updates: Haripur Hazara >>>>> Download Full
>>>>> Download LINK